ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلمانوں کے مسائل پر حکومت کی توجہ مبذول کرانے مسلم لیجسلیٹرس فورم کا اتفاق اقلیتوں کی فلاح کیلئے ضروری اقدامات کرنے تینوں مسلم وزراء کی پہل

مسلمانوں کے مسائل پر حکومت کی توجہ مبذول کرانے مسلم لیجسلیٹرس فورم کا اتفاق اقلیتوں کی فلاح کیلئے ضروری اقدامات کرنے تینوں مسلم وزراء کی پہل

Sat, 22 Oct 2016 04:41:45    S.O. News Service

بنگلورو۔21/اکتوبر(ایس او نیوز) ریاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی فلاح وبہبود کیلئے حکومت کی طرف سے رائج اسکیموں کے نفاذ کو موثر بنانے اور ان اسکیموں کو مناسب فنڈز کی فراہمی کیلئے وزیر اعلیٰ سدرامیا پر زور دینے کیلئے کل مسلم لیجسلیٹرس فورم نے اتفاق کیا۔ سابق مرکزی وزیر اور ریاستی پلاننگ بورڈ کے نائب چیرمین سی ایم ابراہیم کی رہائش گاہ پر کل ریاستی وزراء اور لیجسلیٹرس کی ایک میٹنگ میں موجودہ حالات کا جائزہ لیاگیا اور اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے ساتھ انہیں مناسب تحفظ فراہم کرنے کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا پرزور دینے پر اتفاق ہوا۔ میٹنگ کی تفصیلات اخباری نمائندوں کو دیتے ہوئے فورم کے سکریٹری اور رکن کونسل عبدالجبار ایم ایل سی نے بتایاکہ کل کی میٹنگ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے اپنائے گئے اقدام کی حمایت کے ساتھ ریاستی حکومت کی طرف سے 10/ نومبر کو ٹیپو سلطان جینتی منانے کے فیصلے اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ میٹنگ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو چار فیصد ریزرویشن ہونے کے باوجود بیشتر بھرتیوں میں مسلمانوں کا حصہ ایک فیصد بھی پر ہو نہیں پارہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم امیدواروں کی طرف سے داخل کی گئی عرضیوں کو کنڑا سے ناواقفیت کی بنیاد پر مسترد کردیا جارہا ہے۔ مسلم لیجسلیٹرس فورم اس سلسلے میں کوئی راستہ نکالنے کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا سے گذارش کرے گا۔ پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران حکومت کی طرف سے اقلیتوں کیلئے کن اسکیموں کا اعلان کیاگیا،ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اب تک ریاستی، ضلع اور تعلقہ سطح پر کیا کارروائی ہوئی اس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ساتھ ہی ریاستی کابینہ میں نمائندگی کرنے والے تینوں وزراء جناب روشن بیگ، تنویر سیٹھ اور یوٹی قادر کو دئے گئے تینوں اہم قلمدانوں، شہری ترقیات، بنیادی وثانوی تعلیمات، شہری رسد وخوراک کے محکموں سے اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ کس طرح فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے، اس سلسلے میں اسکیموں کی نشاندہی کے مقصد سے ریاست کے سینئر وظیفہ یاب افسران کی ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری محکموں میں اقلیتوں کو فائدہ پہنچانے والے امور کی فوری نشاندہی کرتے ہوئے رپورٹ پیش کریں،تاکہ ابتدائی طور پر ان تینوں محکموں کے ذریعہ اقلیتوں کو جہاں جہاں فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے وہ قدم اٹھائے جاسکیں۔ عبدالجبار نے بتایاکہ میٹنگ میں موجود جناب روشن بیگ نے کہاکہ ان کے محکمہ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو جس قدر فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے، اس کیلئے و ہ حتی الامکان کوشش کریں گے۔ خاص طورپر ان کے محکمہ کی طرف سے ترتیب دئے جانے والے لے آؤٹس میں اقلیتوں کو سائٹس یا مکانات کی فراہمی کے سلسلے میں اگر موثر اسکیم وضع کی گئی تو اس سے کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ریاست میں نظم وضبط کی صورتحال کا بھی میٹنگ میں جائزہ لیا گیا اور محسوس کیاگیا کہ قومی سطح سے لے کر مقامی سطح تک بھی ہر مسئلہ پر مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان پریشانیوں کا جواب مسلمان اپنے اتحاد کے ذریعہ ہی دے سکتے ہیں۔ اوقافی املاک کے تحفظ کیلئے بھی اس میٹنگ میں زور دیاگیا اور میٹنگ میں موجود وزیر برائے اقلیتی بہبود واوقاف تنویر سیٹھ سے کہاگیا کہ وقف گرانٹس سے ہر ضلع کیلئے کم از کم ایک کروڑ کی رقم مختص کی جائے تاکہ وہاں پر ان قبرستانوں اور دیگر وقف املاک کی فوری حصار بندی ہوسکے، جن پر غیر قانونی قبضوں کا خدشہ ہے۔ساتھ ہی جو املاک غیر قانونی قبضوں میں جاچکی ہیں،ان کو خالی کرانے کیلئے ضروری قانونی چارہ جوئی کی جاسکے۔ میٹنگ میں تینوں ریاستی وزراء روشن بیگ، یوٹی قادر، تنویر سیٹھ، ریاستی پلاننگ بورڈ کے نائب چیرمین سی ایم ابراہیم، اراکین اسمبلی رحیم خان، مقبول باغوان اراکین کونسل عبدالجبار، مدیر آغا، رضوان ارشد کے علاوہ وظیفہ یاب افسران محمد ثناء اللہ، عزیز اللہ بیگ، سید ظہیر پاشاہ، الفت حسین، سید اعجاز احمد، معاذ احمد شریف، تحسین احمد، ایس این ایچ رضوی، اکرام اللہ، انور پاشاہ وغیرہ موجود تھے۔اس موقع پر عبدالجبار کے ہمراہ کانگریس لیڈر جی محمد انور بھی موجود تھے۔


Share: